ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لیجسلیچر کے مشترکہ اجلاس سے گورنر واجو بھائی والا کا خطاب،ریاست کی ہمہ جہت ترقی کیلئے حکومت کے منصوبوں کی ستائش

لیجسلیچر کے مشترکہ اجلاس سے گورنر واجو بھائی والا کا خطاب،ریاست کی ہمہ جہت ترقی کیلئے حکومت کے منصوبوں کی ستائش

Tue, 07 Feb 2017 11:08:28    S.O. News Service

بنگلورو،6؍فروری(ایس اونیوز) ریاستی لیجسلیچر کے مشترکہ اجلاس سے گورنر واجو بھائی والا کے خطاب کے ساتھ آج ریاستی لیجسلیچر کے مختصر اجلاس کی شروعات ہوگئی۔مہادائی ، کرشنا اور کاویری سے ریاست کے حصہ کا پانی حاصل کرنے کیلئے مناسب اقدامات کا تیقن ، سڑک حادثات میں زخمیوں کی فوری امداد کیلئے آگے آنے والوں کی ہراسانی روکنے کیلئے ضوابط ، صنعتوں کی طرف زیادہ توجہ وغیرہ گورنر واجو بھائی والا کے مشترکہ ایوان سے خطاب کے اہم نکات رہے۔ سال رواں کے پہلے اجلاس کے پہلے دن گورنر نے اسمبلی اور کونسل کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی حکومت کمزور اور محروم طبقات کی فلاح وبہبود کی پابند رہے گی۔ پچھلے چار سال کے دوران حکومت نے اپنے وسائل اور اختیارات کا استعمال ان طبقات کی فلاح کیلئے کیا ہے۔ کاویری اور مہادائی آبی تنازعات کے سلسلے میں عدالتی احکامات حالانکہ ریاستی حکومت کیلئے ایک سنگین چیلنج رہے ہیں ، لیکن حکومت نے ریاست کے پانی ، زمین اور زبان کے تحفظ کیلئے عو ام کی امنگوں کے ساتھ کام کیا ہے۔کاویری ، کرشنا اور مہادائی ندیوں سے پانی حاصل کرنے کیلئے حکومت اپنی قانونی جدوجہد کو سنجیدگی سے آگے بڑھانے پر کاربند ہے۔ گورنر نے کہاکہ انسداد کرپشن بیورو کو مکمل اختیارات دئے جانے کیلئے حکومت نے ضروری قدم اٹھائے ہیں۔ مختصر عرصہ میں 3401 معاملات میں سے 2294کو اے سی بی نے نمٹایا ہے۔32؍ چھاپے مارے ہیں ، 21 مقامات پر تلاشی لی ہے اور 153معاملات درج کرکے 100ملزمین کی نشاندہی کی ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے خصوصی درجہ حاصل کرنے والے حیدرآباد۔کرناٹک علاقہ کیلئے خصوصی گرانٹس فراہم کرکے وہاں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ محکمۂ پولیس کو مضبوط کرنے کیلئے تمام تر اقدامات کئے گئے ہیں۔ گزشتہ چھ سال سے خشک سالی سے بدحال ریاست کرناٹک میں رواں سال 160 تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے، گزشتہ اپریل سے اب تک ان علاقوں میں راحت کاری کیلئے 1195کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔ خشک سالی کے سبب 2.25لاکھ کسان خسارے کا شکار ہوئے ہیں، اسی لئے ان کی طرف سے لئے گئے قرضے پر حکومت نے 31 مارچ تک کا سود معاف کردیاہے۔پیاز ، ناریل ، تور ،دھان اور دیگر فصلوں کے ناکارہ ہوجانے کے سبب حکومت نے بازار میں مداخلت کرتے ہوئے کم از کم تائیدی قیمت کسانوں کو ادا کی ہے۔ خود کشی کرنے والے کسانوں کے خاندانوں کی مدد کیلئے سورنا آروگیہ ٹرسٹ کے تحت اندرا سرکشا یوجنا شروع کی گئی ہے۔گورنر نے کہاکہ ریاستی حکومت کرناٹک کو بھوک اور جھونپڑ پٹی سے آزاد بنانے کی پابند ہے۔اس مقصد کیلئے 6؍لاکھ مکانات کی تعمیر کا منصوبہ مرتب کیا گیا ہے۔انا بھاگیہ اسکیم کے تحت ایک کروڑ سے زائد خاندانوں کو راشن مہیا کرایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر سال تین لاکھ مکانات کی تعمیر کے نشانہ کو آگے رکھ کر حکومت نے اب تک 10.42لاکھ مکانات تعمیر کروائے ہیں۔ رواں سال بھی چھ لاکھ مکانات کی تعمیر کا منصوبہ مرتب کیاگیا ہے۔ اس کیلئے مستحقین کی نشاندہی کا عمل جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ شہروں میں 893کروڑ روپیوں کی لاگت پر جھونپڑ پٹیوں کو انفرااسٹرکچر مہیا کرایا جارہا ہے۔ ان میں شامل 16522مکانات کی تعمیر کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ دیہی علاقوں میں ہمیشہ بجلی کی فراہمی اور 129 تعلقہ جات میں بروقت آبپاشی منصوبوں کی تکمیل کیلئے خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ انہو ں نے کہاکہ بنگلور انٹرنیشنل ایرپورٹ کے دوسرے رن وے اور دوسرے ٹرمینل کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے، جلد ہی اسے مکمل کرلیا جائے گا۔بلگاوی اور ہبلی ایرپورٹس کو بہتر بنانے کیلئے ایرپورٹ اتھارٹی کی طرف سے قدم اٹھائے گئے ہیں ، جبکہ کلبرگی ایرپورٹ کی تعمیر کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ ریاست میں ریلوے پراجکٹوں کیلئے حکومت کی طرف سے 50 فیصد گرانٹ اور مفت زمین دی جارہی ہے۔ فی الوقت ریاست میں دس ریلوے پراجکٹس بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔ان میں رام نگرم ، میسور ، ہاسن ، بنگلور ، بیدر، کلبرگی، باگلکوٹ اور کڈچی میں یہ کام جاری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے تین سال کے دوران 8927 کلومیٹر صوبائی شاہراہ اور 17163کلومیٹر ضلعی سڑکوں کو ترقی دی گئی ہے۔ درج فہرست ذاتوں کی کالونیوں میں1992کلومیٹر اور درج فہرست قبائل کی کالونیوں میں 786کلومیٹر کانکریٹ سڑک بچھائی گئی ہے۔ گورنر نے کہاکہ یتنا ہولے پراجکٹ اور اپر بھدرا پراجکٹ کی تعمیر کیلئے وشویشوریا جلا نگم نامی ایک نئی کارپوریشن قائم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں علاقائی عدم توازن کو دور کرنے کیلئے ننجنڈپا کمیٹی سفارشات کے تحت حیدرآباد۔کرناٹک پر تین ہزار کروڑ روپے صرف کئے جارہے ہیں۔ بنگلور میں سرکاری املاک پر غیر قانونی قبضہ جات ہٹانے کیلئے اقدامات کرتے ہوئے پچھلے تین سال کے دوران 4700ایکڑ زمین قبضوں سے خالی کرائی گئی ہے۔ بنگلور میٹرو کا تذکرہ کرتے ہوئے گورنر نے کہاکہ نما میٹرو پراجکٹ کا پہلا مرحلہ جو 42.38کلومیٹر پر مشتمل ہے، اپریل میں مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پہلے مرحلے کی تکمیل کے ساتھ ہی دوسرے مرحلے کے کام کو بھی تیزی سے پورا کرنے کیلئے حکومت کوشاں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریلویز کے تعاون سے بنگلور میٹرو پالیٹن علاقہ کیلئے سب اربن ریل نظام کیلئے بھی کام شروع کیا جارہاہے۔ محکمۂ ریلویز کے ساتھ اس کیلئے معاہدہ ہوچکا ہے۔ گورنر نے بتایاکہ شہر میں 7300کروڑ روپیوں کی لاگت پر مختلف سڑکوں کو کشادہ کرنے اور انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کا کام جاری ہے۔ بنگلور واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے تحت بی بی ایم پی کی حدود میں شامل ہونے والے 110 دیہاتوں کو کاویری کا پانی فراہم کرنے کیلئے قدم اٹھائے گئے ہیں۔ ریاست کے شہروں اور قبضوں کو آبرسانی کیلئے 427کروڑ روپیوں کی لاگت پر گیارہ منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔ نگروتھانہ پراجکٹ کے تیسرے مرحلے کے تحت رواں سال 2836کروڑ روپیوں کی لاگت پر چھوٹے اور درمیانی زمرے کے شہروں کو ترقی دی جائے گی۔ گورنر نے ریاست کو سرمایہ کاروں کیلئے بہترین مقام قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہاں پر سرمایہ کاروں کو صنعتی ماحول ، بہترین سہولیات کے ساتھ مہیا کرایا جارہا ہے۔


Share: